منگلورو 11 / مارچ (ایس او نیوز) ایک خاتون ریسرچ اسکالر نے سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے کہ اُسے اچاریہ ناگ راج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کوندور سدھیر کمار کی طرف سے بار بارٹیلی فون کرکے ہراساں کیا جارہا ہے اور پروفیسر نے اس کی تصویروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے ان بگاڑی ہوئی تصویروں کو سوشیل میڈیا پر اَپ لوڈ کیا ہے۔
شکایت درج کرنے والی خاتون ایک پرائیویٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ ڈاکٹر کوندور نے اس خاتون سے کہا تھا کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی کے لئے معاون گائڈ کے طور پر اُسے مقرر کرلے۔ خاتون نے یہ معاملہ یونیورسٹی کے سامنے رکھا تو یونیورسٹی کے ذمہ داران نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر موصوف اس کا معاون گائڈ بننے کے اہل نہیں ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر برہم پروفیسر نے اس خاتون کواوراس کے والد کو فون کرکے ہراساں کرنے اور اس کی تصویریں بگاڑ کر سوشیل میڈیا پر پوسٹ کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔